18 اکتوبر 2010 - 20:30

سنی اتحاد کونسل نے پنجاب حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرتے ہوئے 16 اکتوبر کو داتا دربار سے بری امام تک لانگ مارچ کا اعلان کر دیا، کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ داتا دربار پر خودکش حملوں میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری میں ناکامی اور کونسل کے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر پنجاب حکومت سے الحاق ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے / دہشت گردی کے حامی پاکستان کے غدار ہیں، فضل کریم

شہدائے داتا دربار کے چہلم کے موقع پر منعقد ہونے والی"قومی امن کانفرنس"میں سنی اتحاد کونسل نے دہشت گردی کے خاتمے، امن کے قیام،  اپنے مطالبات کی منظوری اور انقلاب نظام مصطفی ص برپا کرنے کے لئے 16 اکتوبر کو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے، لانگ مارچ سے قبل صوبائی سطح پر کنونشن اور امن مارچ منعقد ہوں گے، اس بات کا اعلان سنی اتحاد کونسل کے چیئر مین صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم نے ”قومی امن کانفرنس“ سے صدارتی خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حامی پاکستان کے غدار، امریکہ کے وفادار ہیں۔ قومی امن کانفرنس کے لاکھوں شرکاء سے جماعت اہل سنت کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سے ہزاروں قافلوں نے شرکت کی، داتا دربار کے سامنے بنائے گئے وسیع و عریض سٹیج پر کم و بیش ایک ہزار علماء و مشائخ بیٹھے تھے، جبکہ داتا دربار کے سامنے کی تمام سٹرکیں اور بھاٹی چوک کانفرنس کے پرجوش شرکاء سے بھرا ہوا تھا، ہر طرف گنبد خضریٰ والے سبز پرچم لہرا رہے تھے۔کانفرنس کے شرکاء وقفے وقفے سے داتا تیرے چوکیدار بے شمار بے شمار، امریکہ نہ طالبان پاکستان پاکستان، پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائیں گے، اولیاء کا ہے فیضان پاکستان پاکستان، طالبان کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے جیسے نعرے بلند کرتے رہے۔صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ اہل سنت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، ہم مسلم لیگ (ن) کے اتحادی تھے اور پچھلے کئی انتخابات میں یارسول اللہ (ص) کہنے والوں نے مسلم لیگ کی ملک بھر میں حمایت کی اور جنرل مشرف کے آٹھ سالہ دور آمریت میں پوری استقامت اور جرأت کے ساتھ مسلم لیگ کا ساتھ نبھایا، لیکن مسلم لیگ ہمیں اپنے سے الگ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ جان دے دوں گا، لیکن پاکستان کے تحفظ اور قیام امن کے لئے دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا، دہشت گردوں کے حامی پاکستان کے غدار اور امریکہ کے وفادار ہیں، قومی امن کانفرنس میں لاکھوں سفیران امن نے شریک ہوکر دہشت گردوں کا خوف توڑ دیا ہے اور قوم کو دہشت گردوں کی مزاحمت کے لیے متحد کر دیا ہے۔ انقلاب نظام مصطفی برپا کرکے دم لیں گے، حکمران سن لیں، دہشت گردوں کے سرپرستوں اور داتا علی ہجویر ی کے غداروں کے اقتدار کا دھڑن تختہ قریب ہے۔نیٹ نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ سانحہ داتا دربار کے ملزم گرفتار نہ کرنے کے خلاف 26اگست کو کل پاکستان علماء مشائخ کانفرنس لاہور میں بلائی جائیگی، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔آئی این پی کے مطابق کہا کہ صدر کو آج سیلاب زدگان میں موجود ہونا چاہئے۔آن لائن کے مطابق انہوں نے کہا کہ جو حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے گی، اس کا ساتھ دینگے، دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے اور جو حکومت ایسا کرے گی، وہ پاکستان،  اسلام اور قوم کی غدار تصور ہو گی۔دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر سے مذاکرات کرنے والے حکمرانوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مدارس اور مشکوک اداروں کے خلاف کریک ڈاوٴن کیا جائے اور ناجائز اسلحہ پکڑا جائے۔سنی تحریک کے سربراہ اعجاز ثروت قادری نے کہا کہ قیام امن کے لئے کراچی کی طرح پنجاب میں بھی ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے۔ دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق موٴثر حکمت عملی وضع کرنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔کانفرنس کے مقررین نے مطالبہ کیا کہ جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملے بند کرنے کے لئے حکومت عالمی سطح پر اپنا احتجاج بلند کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110